صفحات

اتوار، 30 ستمبر، 2018

Doctor ki life, sub Doctor bhi laparwah nhi Chand Kali bherain hen


آج پھر وہ رات کو گھر نہ آیا ۔ ثانیہ کا غصے سے برا حال تھا۔ یہ آج کی بات نہ تھی اکثر یہی اس کا غاٸب رہنا۔ اور پھر آتے ہی بستر پکڑ لینا...

اور وہ جو دل میں اتنی باتیں لے کے بیٹھی رہتی۔ یہ بات بھی کروں گی وہ بات  بھی کروں گی۔ یہ بھی پوچھوں گی وہ بھی پوچھوں گی۔اور کبھی کبھی سوچتی اس سے لڑوں گی۔ کتنا عرصہ ہو گیا وہ کہیں گھومنے نہیں گۓ۔  بس ہنی مون پر ایک ہفتہ وہ شمالی علاقہ جات گھوم کے آۓ تھے۔ کتنا خوبصورت  وقت تھا۔ اس کے بعد وہ ایسا مصروف ہوا۔ پھر عدنان ہونے والا ہو گیا پھر وہ کہیں نہ جا سکے۔ اب تو عدنان ایک سال کا ہو گیا تھا۔ چلنے لگا تھا۔ وہی سارا دن اس کو مصروف رکھتا۔ یا ٹی وی دیکھ لیا کسی دوست سے فون پہ بات کر لی۔ جب وہ آتا تو ساری باتیں جو کرنی ہوتیں دل میں رہ جاتیں ۔ وہ تو بستر پر لیٹتا اور ساتھ ہی دوسرے لمحے سو چکا ہوتا۔

”اف ایسی بھی کیا انوکھی مصروفیات ہیں ان کی
نہ بیوی کا ہوش نہ بچے کا“

اور اس کی تنخواہ بھی بس اتنی تھی کہ وہ بس اپنی ضروریات پوری کر سکتے تھے۔ 

عدنان بھی 2 دن سے سست سست تھا۔ کچھ کھا پی بھی نہیں رھا تھا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرجیل کو ابھی ایک کپ چاۓ کا ٹاٸم ملا تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا آج کا دن ویسے ہی بڑا عجیب تھا۔ صبح صبح پروفیسر  نے ایک بیڈ پر کلاس لے لی۔ اس کے بعد میل وارڈ کے 70 سالہ مریض بابا جی نے اس کے کپڑوں پر الٹی کر دی۔ ایمرجینسی بھی بہت heavy. پھر سرجری سے اس کے دوست کا فون آگیا یار ایک مریض بڑا سیریس ھے۔ تیرا O negative گروپ ہے ایک بوتل دے دے کسی کی زندگی کا سوال ھے۔ ””مگر میں نے 2 ماہ پہلے ھی تو دی تھی“”یار جلدی سے آجا ۔ ھمت کر“
”اوکے آتا“
ایک تو یہ O negative گروپ ہونا بھی ایک مصیبت
چاۓ پیتا سوچ رہا تھا  اس بار تنخوہ ملتی تو میں بھی چھٹی لیتا تھک گیا اس روٹین سے۔ فیملی کو کہیں گھما کے لاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ساجد بتا رہا تھا کہ چیف جسٹس نے بیان دیا ہے کہ ڈاکٹر قصاٸ ہوتے ہیں اسے بڑا دکھ ہوا۔ ”تو کیوں غمگین ہو رہا یہ پراٸیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو کہا ہے۔“ ”یار یاد ہے نہ اتنی دعاٶں منتوں اور رتجگوں کی پڑھاٸ کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا تھا۔ اس کے بعد 5 سال میڈیکل کالج کی انتھک محنت ٹینشن بھری پڑھاٸ پھر ہاٶس جاب پھر پارٹ ون ناٸٹ ڈیوٹیز  ۔ اس کے بعد مریضوں کی باتیں الگ سنو۔ میڈیا کی کہانیاں الگ اور پھر چیف جسٹس صاحب کا ایسا بیان۔ لعنت ھے یار یعنی اتنا سب کرنے کے بعد ڈاکٹر کو پیسہ کمانے کا حق نہیں“
” خود یہ ایک کیس کے لاکھوں کروڑوں لیتے وکیل“
”دفعہ کر اپنا خون نہ جلا بڑا قیمتی خون ہے تیرا ۔ ھاھاھا“

ڈاکٹر شرجیل اس وقت ایمرجینسی میں بیٹھے تھے۔ ان کو ایک مریض کو جس کو سر پر چوٹ آٸ تھی کو ٹانکے لگاتے ہوۓ ہاتھ پر سوٸ چبھ گٸ تھی۔ مریض چونکہ ایمرجینسی میں آیا تھا اس لیۓ اس کے ٹیسٹ فوراً نہیں ہو سکے تھے۔ خون پڑنے کے باعث فوراً ٹانکے لگانے پڑے اور ابھی پتہ لگا تھا۔ کہ وہ مریض ہیپاٹاٸٹس سی کا مریض تھا۔ شرجیل ابھی اسی پریشانی میں اپنی انگلی پر پاٸیوڈین لگانے میں مصروف تھا۔ اتنے میں 2 لوگ ایک لڑکے کو لے کے اندر آۓ جو نیم بے ہوش سا تھا۔ سر سے خون بھی بہ رہا تھا ابھی یہ ان کو دیکھنے کے لیۓ اٹھنے ہی لگا تھا کہ اس کا موباٸل بولنےلگا۔ فون کی سکرین دیکھی اسی دشمن جاں کا فون تھا۔ ہونٹوں پہ مسکان آٸ۔ ھیلو ہی بولا تھا کہ کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا  اس نے مڑ کر دیکھا کہ وہی بندہ جو لڑکے کو اٹھا کے لایا تھا خونخوار نظروں سے اس کا ایکسرے کر رہا تھا۔ 
”تم نے دیکھا ہے ہم مریض کو کس حالت میں لے کے آۓ ہیں  اور تم فون پہ لگے ہو“

”میں تمہیں بعد میں فون کرتا ہوں“
کہ کے فون جیب میں ڈالا

مریض کو دیکھنے بھاگا۔ وہ بے ہوش تھا اس کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی تھی۔ منہ سے جھاگ سی نکل رہی تھی۔ سر سے خون بہ رہا تھا۔ فون دوبارہ بجنے لگا مگر دیکھنے کا وقت نہیں تھا کس کا ہے۔ 

”سسٹر جلدی سے سکشن لے کر آٶ ۔ مریض کی نبض چیک ٹھیک چل رہی ھے۔ سانس مشکل سے لے رہا ہے۔ سسٹر نازیہ آپ آٸ سی یو سی ڈاکٹر ساجد کو بلا کے لے کے آٸیں مریض کی حالت تشویشناک ھے۔ “ 

ڈاکٹر شرجیل نے ایمبو بیگ پکڑا مریض کی سکشن کی اور اور مریض کو مصنوعی سانس دینا شروع کیا۔   جونیٸر ڈاکٹر خالد نے مریض کے رشتے دار سے ہسٹرٕی دینے کو کہا تو وہ ہتھے اکھڑ گیا۔ دیکھ نہیں رہے چوٹ لگی ہے۔
”او بھاٸ چوٹ لگی ہے نظر آرہا ھے مگر اس کو MLC بنے گا۔ یہ قانونی کیس ہ مریض کا خون کا بھی انتظام کرنا ہو گا۔ خون کافی بہ چکا ہے۔آپ کو مریض کی فاٸل بنوانی ہو گی اور اس پر دستخط کرنے  ہوں گے کہ آپ مریض کو سیریٸس حالت میں لے کے آۓ ہیں۔ “۔

"او ڈاکٹر یہ فاٸل وغیرہ ہم نے نہیں بنوانی جو کچھ بنوانا تم خود بنواٶ اور خون کا بھی انتظام خود کرو۔ میں ایم این اے عبدالرزاق کا منشی ہوں بڑے ہسپتال میں بچہ لانے کا مجھے کیا فاٸدہ کہ سب کچھ میں ہی کروں اور میں نے کوٸ دستخط نہیں کرنے۔ میرا مریض  ٹھیک ہونا چاھٸے سمجھے“

“دیکھیں جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

”ڈاکٹر خالد جلدی آٸیں مریض Gasp کر رہا ہے“

ڈاکٹر شرجیل اس لڑکے کا CPR کر رہے تھے اور ڈاکٹر ساجد ambu

حالت پر امید نہیں تھی نرسن ے مریض کے رشتے دار کو باھر جانے کے لیۓ کہا مگر وہ سیکیوریٹی گارڈ کو پیچھے دھکیل کے اندر آ گیا

دیکھتے ہی دیکھتے مریض اس دنیا سے چلا گیا۔ Ventilator سب مصروف تھے۔ ۔ ECG flat تھی۔ مگر مریض کے رشتے دار کو اتنا ہی بتانا تھا کہ مریض نہیں رہا۔ اس نے ڈاکٹر خالد کو دھکا دیا اچانک ایمرجینسی وارڈ میں 15 سے 20 آدمی کہاں سے آگۓ سیکیوریٹی والے ان کو نکالنے سے قاصر تھے۔ ایمرجینسی کی کرسیاں اٹھا اٹھا کے پھینکی گٸیں۔ دو بندوں نے کرسی مار کر شیشے توڑنے شروع کیۓ۔ ڈاکٹر شرجیل نے ایم ایس کو کال کرنے کے لیۓ فون نکالا 
اف اس ستمگر کی 22 کالیں ۔ اس نے ایم ایس کا نمبر ملایا مگر ڈاٸل کرنے سے پہلے اس کے منہ پر ایک گھونساپڑا اس کا فون ساٸیڈ پر گرا۔ پھر آگے پیچھے 3 4 گھونسے
کھایا اس نے صبح سے کچھ نہیں تھا۔ وہ گرا پتہ نہیں اتنی جلدی میڈیا کہاں سے پہنچ گیا۔ جس کو وہ بندہ اچھل اچھل کے بتا رہا تھا کہ میرا بھتیجا بالکل ٹھیک باتیں کرتا یہاں آیا اس ڈاکٹر نے پہلے تو اس کو پتہ نہیں کونسی دواٸیں دیں جن سے اسکی حالت بگڑنے لگی اس کے بعد اس نے اس کا سینہ دبا دبا کر اس کی پسلیاں توڑ دیں۔ جس سے وہ مر گیا۔ ہمارے سامنے  اس نے وہ ٹیکہ لگایا جس سے مریض کی حالت بگڑی“

پولیس آگٸ تھی جس نے مشتعل لواحقین کو باہر نکالا اور شرجیل سے کہا آپ کو تھانے لے جانا پڑے گا ورنہ رشتے دار آپ کو نقصان پہنچا دیں گے۔ “ اور پولیس شرجیل کو ساتھ لے گٸ جبکہ اس کے اپنے منہ پر زخموں کے نشان تھے۔ 

2 گھنٹے تک یہ خبر میڈیا کی زینت بن چکی تھی کہ ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے نوجوان کی جان چلی گیٸ۔ ہر چینل پر ticker چلنے لگا۔ وارڈ کے پروفیسر اور ڈاکٹروں کی تنظیم کی کوشش سے اس کو حوالات سے آزاد کیا گیا۔  اس کا موباٸیل اس کے پاس نہیں تھا وہ صبح کے 10 بجے برے حال گھر پہنچا۔ ملازمہ نے دروازہ کھولا اور کہا ”صاحب بیگم صاحبہ تو چلی گٸیں“ اس نے ملازمہ کو عجیب نظروں سے دیکھا جیسے سمجھ نہ آیا ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ابو جی پلیز مجھے یہاں سے آ کر لے جاٸیں کس شخص سے آپ نے میری شادی کر دی۔ ایک تو اس کے پاس میرے لیۓ وقت نہیں ہے۔ دوسرا عدنان صبح سے موشن کر رہا ۔ میں نے دوا بھی دی مگر اس کی حالت نہیں سنبھل رہی۔ عجیب بد نصیب بچہ ھے۔ باپ اس کا ڈاکٹر ہے اور بچہ خود شدید بیمار۔ اس کو ھسپتال لے جانا ہو گا۔“

”فون کیا تم نے اس کو؟“

”ایک بار نہیں ہزار بار مگر محترم نے کال نہیں اٹھاٸ۔ بندہ مسڈ کال دیکھ کے ھی فون کر لیتا مگر نہیں۔“

”ہوں اوکے میں تمہیں لینے آرہا اپنا سامان پیک کرو پہلے عدنان کو ھسپتال لے کے چلتے ہیں۔ شرجیل سے اب ہم کو سنجیدگی سے بات کرنی ہو گی“

This is the life of a doctor

Low salaries
Hard work
No security
No rest
Bullshit media
No humanity No sympathy for doctors

And last of all

NO FAMILY LIFE 😢

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

A latest real story

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Qaide Azam sy Mohobat Pakistan ki Taraqi, aiksafar Aik mulaqat Buzrug Khatoon ki Azeem baten

🎆🎇🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎇🎆 Qaide Azam Muhammad Ali Jinnah ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ...