یہ 1987 کے موسم بہار کا ذکر ہے، میرا اپنے دوست کے ساتھ لاھور کا پروگرام بنا۔
طاہر ادیب میرا اور ھمارا پیارا سا دوست، روانگی ہوئی، سانگھڑ سے نوابشاہ پھر ریل سے لاھور۔
وکٹوریہ ہوٹل شب بسری ہوئی، طاہر بھائی کو ھم اپنی تمام دوستوں کی "نانی امّاں" بھی کہ سکتے ھیں۔
رات ھوئ تو بات سے بات نکلی طاہر بھائی سے کہا میں کہ اشفاق احمد خان سے ملنے کی خواہش لئے سانگھڑ سے چلا ھوں حسب عادت تھوڑا سا سوچا اور
گویا ھوۓ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں دیکھتے ھیں۔
اس زمانے میں ملک میں PTCL کا راج تھا، اٹھے باہر نکلے کاؤنٹر سے ایک کال کی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے، تیاری پھڑ بئی!
عرض کی بابا جی کہاں؟ یاد طاہر بھائی کو تب بھی بابا جی کہتا تھا، اب بھی کہتا ھوں۔
بولے اشفاق احمد صاحب کے ہاں۔
ابھی؟
جواب ملا نہیں کل صبح 10 بجے، یاد رہے کہ طاہر بھائی کی خان صاحب سے بھی یاد اللّه تھی۔
اچانک خوشی ملی،
رات بھر خوشی کے مارے نیند نہیں آئ، جیسے کہ صبح عید ھو۔
جلد ہی اٹھ گیا کہ جیسے سویا ھی نہیں، ناشتہ، آٹو رکشا اور کچھ دیر میں مرکزی اردو سائنس بورڈ لاھور۔
پرچی بھیجی فوری بلاوا آ گیا جیسے خان صاحب خود ھمارے ہی منتظر ھوں۔
۔۔۔
خان صاحب کے آفس میں داخل ھوۓ تو مطلوب طالب کے سامنے تھا، سرخ و سپیڈ چہرہ، سفید خشخشی سی داڑھی، نور سے بھاری ہوئی، ملیشیا کا جوڑا، سفید آف ویسٹ کوٹ۔
دیکھتے ہی مسکراتے ھوۓ ہاتھ پھیلائے اگے بڑھے جیسے ھم دونوں کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ھوں (سبحان اللّه )
سادہ سا دفتر سادہ ماحول، جیسے کسی معمولی سے افسر کا روم ھو کسی ڈائریکٹر جنرل کا نہیں۔ گلے ملے، بیٹھنے کو کہا۔
فون پر P.A سے کہا کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے میرے سندھ سے مہمان آئے ھیں، کوئی خاص فون آئے تو ملا دینا۔
خیرخیریت کے باد طاہر بھائی نے تعارف کروایا، میری حثیت ہی کیا تھی خان صاحب کے سامنے، حیرت سے فرمایا "اچھا جی" بہت خوشی ہوئی چوھان صاحب سے مل کر، یہ میرے بابا جی کی انکساری تھی۔
پھر کچھ ادھر ادھر کی، ھماری ھر بات کو اس طرح سے سن رہے تھے جیسے سب کچھ پہلی بار سن رہے ھوں، کمال حیرت کے ساتھ۔
خان صاحب تعارفی بات چیت میں اپنا لیول مہارت کے ساتھ ھمارے لیول کے برابر بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے لا چکے تھے، جیسے ھم ہی سب کچھ ھوں خان صاحب کچھ بھی نہیں۔
یہ انکی فیاضی کی انتہاء تھی۔
بات سے بات چلی خان صاحب سنتے رہے خوش ھوتے رہے، یوں لگ رہا تھا جیسے عظیم بندہ خان صاحب نہیں ھم ھوں، ھمیں شرف ملاقات نہیں بخشا بلکہ ھم سے مل کر خوش ھو رہے ھوں، یہ بھی انکی کمال ظرفی ہی تھی۔
چائے آئ، پی تو گپ شپ کا نیا دور چلا،
طاہر بھائی نے کہا،
یار جو پوچھنا ہے خان صاحب سے پوچھو ناں؟
جھجکتے جھجگتے کچھ پوچھا تو جواب ملنا شروع ھوا،
یقین جانئے فضا میں پھول ہی پھول بکھر رہے تھے ایک انمول سی خوشبو کے احساس کے ساتھ۔
جاری ہے ۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں